Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

(فتح مکہ پر بیماری اور مال صدقہ کرنے کی اجازت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفِيتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي , أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُّ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُخَلَّفُ عَلَى هِجَرَتِي؟ فَقَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" , وَلَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ , وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ.
عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں مکہ میں بیمار ہو گیا، ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پر پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: نصف کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: ایک تہائی کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی کر دو! ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں مفلوک الحال چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالو گے (اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا)۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں مجھ سے پیچھے نہیں کیا جائے گا تم جو بھی عمل کرو گے، جس کے ذریعے تم نے اللہ کی رضا چاہی ہوگی، تو اس کے نتیجے میں تمہاری رفعت اور مرتبے میں اضافہ ہوگا، ہو سکتا ہے کہ میرے بعد بھی زندہ رہو تاکہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے بہت سے لوگوں کو تم سے نقصان ہو۔ (پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی): اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو باقی رکھنا اور تو انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹانا، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔ (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو عامر بن لوی سے تھا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 6733، ومسلم: 1628، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:427، 447، وصحيح ابن حبان: 4249»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں