مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(فتح مکہ پر بتوں کو توڑنے اور چاند کے ٹکڑوں کی روایت)
حدیث نمبر: 86
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَحَوْلَ الْبَيْتِ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ، وَيَقُولُ:" جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ سورة سبأ آية 49، جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء آية 81" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے، تو اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ (360) بت نصب تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں موجود چھڑی کے ذریعہ انہیں مارنا شروع کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے جا رہے تھے: ”حق آ گیا اور باطل (کسی چیز کا) نہ آغاز کرتا ہے اور نہ ہی دوبارہ کرتا ہے۔“ (یہ بھی پڑھا) ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔“ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2478، 4287، ومسلم: 1781، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4967، وصحيح ابن حبان: 5862، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 3654»