صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ:
باب: اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں۔
حدیث نمبر: Q6664
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ سورة الأحزاب آية 5، وَقَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ.
اور اللہ عزوجل نے فرمایا «وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به» کہ ”تم پر اس قسم کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جو غلطی سے تم کھا بیٹھو۔“ اور فرمایا «لا تؤاخذني بما نسيت» کہ ”بھول چوک میں مجھ پر مواخذہ نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: Q6664]
حدیث نمبر: 6664
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَكَلَّمْ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زرارہ بن اوفی نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6664]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے وسوسوں اور ان کے دل کی باتوں سے درگزر فرمایا ہے جب تک وہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا انہیں زبان پر نہ لے آئیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6665
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَوْ مُحَمَّدٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَذَا وَكَذَا، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".
ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع میں) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا (اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ (حلق، رمی اور نحر) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو (تقدیم و تاخیر کرنے میں) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6665]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا“، پھر ایک دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں فلاں فلاں ارکان کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا“ اس کا اشارہ (حلق، رمی اور نحر) تینوں کی طرف تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یونہی کر لو (ان میں سے کسی کام کے پہلے یا بعد کرنے میں) کوئی حرج نہیں“، چنانچہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کام کے متعلق بھی دریافت کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا: ”یونہی کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6666
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6666]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”میں نے رمی سے پہلے طوافِ زیارت کر لیا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ ایک دوسرے نے کہا: ”میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے اپنا سر منڈوا دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ تیسرے نے کہا: ”میں نے رمی کرنے سے پہلے اپنی قربانی کو ذبح کر ڈالا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6666]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6667
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَأَعْلِمْنِي، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6667]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد وہ شخص آیا اور آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹ جا، دوبارہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ واپس گیا نماز پڑھ کر دوبارہ آیا اور آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا: ”واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ آخر تیسری مرتبہ اس نے کہا: ”آپ مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو، قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو اور قرآن کا جو حصہ آسانی سے پڑھ سکتے ہو اسے تلاوت کرو، اس کے بعد اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، پھر اپنا سر اٹھاؤ، جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، تم یہ عمل اپنی پوری نماز میں کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6667]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6668
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ"، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي، قَالَتْ:" فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ"، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6668]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”غزوہ احد میں مشرکین شکست سے دوچار ہوئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہوگئی تو شیطان لعین زور سے چلایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے سے دشمن کا خیال کرو“، چنانچہ آگے والے لوگ پیچھے کی طرف پلٹ پڑے پھر یہ (آگے والے) اور پیچھے والے باہم مصروف پیکار ہو گئے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اچانک ان کے والد اس جماعت میں ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پکارنے لگے: ”یہ میرا باپ ہے! یہ میرا باپ ہے!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! لوگ پھر بھی نہ رکے حتیٰ کہ انہیں قتل کر دیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔““ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد گرامی کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک افسوس رہا یہاں تک کہ وہ اپنے اللہ سے جا ملے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6669
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ".
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6669]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے کی حالت میں بھول چوک کر کھا لیا تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6670
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، فَكَبَّرَ وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6670]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سر مبارک اٹھایا اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، اور سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا اور سلام پھیر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6671
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، قَالَ مَنْصُورٌ: لَا أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ، وَهِمَ أَمْ، عَلْقَمَةُ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ"، قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لَا يَدْرِي زَادَ فِي صَلَاتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ: فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6671]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی تو نماز میں کچھ اضافہ یا کمی کر دی۔ (راویِ حدیث) منصور نے کہا: معلوم نہیں ہو سکا کہ ابراہیم سے وہم ہوا ہے یا علقمہ بھول گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: پوچھا گیا: ”اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اصل بات کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”آپ نے اس طرح نماز پڑھائی ہے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ دو سجدے کیے پھر فرمایا: ”یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے معلوم نہ ہو کہ اس نے نماز میں کمی کی ہے یا زیادتی۔ اسے چاہیے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالے پھر باقی ماندہ نماز کو پورا کرے پھر سہو کے دو سجدے کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6672
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73، قَالَ: كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا".
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آیت «لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا» کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6672]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درج ذیل آیت ﴿لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا﴾ [سورة الكهف: 73] کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: ”اس چیز کے متعلق مجھ سے مؤاخذہ نہ کرنا جو مجھ سے بھول کی بنا پر سر زد ہو، نیز میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلی مخالفت بھولنے کے باعث تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6672]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة