صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ:
باب: پس قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
حدیث نمبر: Q6708
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ}. وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ وَقَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَعْبًا فِي الْفِدْيَةِ.
اور (سورۃ المائدہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان «فكفارته إطعام عشرة مساكين» اور یہ کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پھر روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطاء و عکرمہ سے منقول ہے کہ قرآن مجید میں جہاں «أو أو» (بمعنی یا) کا لفظ آتا ہے تو اس میں اختیار بتانا مقصود ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب رضی اللہ عنہ کو فدیہ کے معاملہ میں اختیار دیا تھا (کہ مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا ایک بکرے کا صدقہ کریں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: Q6708]
حدیث نمبر: 6708
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُهُ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ادْنُ"، فَدَنَوْتُ فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ"، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ: شَاةٌ وَالْمَسَاكِينُ: سِتَّةٌ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور (کھانے کے لیے) چھ مسکین ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6708]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ پھر میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر روزے رکھو یا صدقہ دو یا قربانی کا فدیہ دو۔“ ابن عون کے طریق سے ایوب نے کہا: ”روزے تین دن کے ہوں گے، قربانی ایک بکری کی اور کھانا چھ مساکین کے لیے ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة