صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ:
باب: فرائض کا علم سیکھنا۔
حدیث نمبر: Q6724
وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ تَعَلَّمُوا قَبْلَ الظَّانِّينَ يَعْنِي الَّذِينَ يَتَكَلَّمُونَ بِالظَّنِّ.
عقبہ بن عامر نے کہا کہ دین کا علم سیکھو اس سے پہلے کہ اٹکل پچو کرنے والے پیدا ہوں یعنی جو رائے اور قیاس سے فتویٰ دیں، حدیث اور قرآن سے جاہل ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: Q6724]
حدیث نمبر: 6724
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، کیونکہ گمان (بدظنی) سب سے جھوٹی بات ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کی برائی کی تلاش میں نہ لگے رہو نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6724]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گمان سے اجتناب کرو کیونکہ بدظنی انتہائی جھوٹی بات ہوتی ہے، آپس میں ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو (ایک دوسرے کی برائی کی تلاش نہ کرو) اور نہ ایک دوسرے سے بغض ہی رکھو، نیز پیٹھ پیچھے کسی دوسرے کی برائی بیان نہ کرو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة