صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 6725
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6725]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے سے اپنا وراثتی حصہ طلب کرتے تھے، یعنی یہ دونوں فدک کی زمین اور خیبر سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6725]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6726
فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔ بیان کیا کہ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے تعلق کاٹ لیا اور موت تک ان سے کلام نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6726]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔ بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ صرف اسی مال سے اپنے اخراجات پورے کریں گے۔“”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: ”اللہ کی قسم! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کام کرتے دیکھا، میں بھی وہی کچھ کروں گا۔“ اس وضاحت کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے مفارقت اختیار کر لی اور اپنی موت تک ان سے کلام نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6727
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ".
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو کچھ بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6727]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں بن سکتا، ہم جو کچھ بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6727]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6728
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ، فَأَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ". يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ، فَقَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَا: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ إِلَى قَوْلِهِ قَدِيرٌ سورة الحشر آية 6 فَكَانَتْ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا، وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ بِذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، فَتَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهَا فَعَمِلَ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ وَلِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا مَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا، بِذَلِكَ فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے مالک بن اوس کی اس حدیث کا ایک حصہ ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ان کے حاجب یرفاء نے جا کر ان سے کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن بن زبیر اور سعد آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آنے دو۔ چنانچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔ پھر کہا، کیا آپ علی و عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آنے کی اجازت دیں گے؟ کہا کہ ہاں آنے دو۔ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب راہ اللہ صدقہ ہے؟ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود اپنی ہی ذات تھی۔ جملہ حاضرین بولے کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ پھر عمر، علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں اب آپ لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ حصے مخصوص کر دئیے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا «ما أفاء الله على رسوله» سے ارشاد «قدير» تک۔ یہ تو خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہارے لیے ہی مخصوص کیا تھا اور تمہارے سوا کسی کو اس پر ترجیح نہیں دی تھی، تمہیں کو اس میں سے دیتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ آخر اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو اللہ کے مقرر کردہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل آپ کی زندگی بھر رہا۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوں چنانچہ انہوں نے اس پر قبضہ میں رکھ کر اس طرز عمل کو جاری رکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی تو میں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کا نائب ہوں۔ میں بھی دو سال سے اس پر قابض ہوں اور اس مال میں وہی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہو۔ آپ دونوں کی بات ایک ہے اور معاملہ بھی ایک ہی ہے۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے ہو اور آپ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کا حصہ لینے آئے ہو جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں اسے آپ کو دے سکتا ہوں لیکن آپ لوگ اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں تو اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، قیامت تک، اگر آپ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتے تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیجئیے میں اس کا بھی بندوبست کر لوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6728]
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھے محمد بن جبیر بن مطعم نے حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث بیان کی، پھر میں خود حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے مذکورہ حدیث کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا دربان یرفاء ان کے پاس آیا اور کہا: ”حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبد الرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں اور وہ اجازت طلب کرتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اچھا انہیں آنے دو۔“ چنانچہ اس نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ اس نے پھر کہا: ”کیا آپ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو بھی اندر آنے کی اجازت دیں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دیجیے یا۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ”ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب اللہ کی راہ میں صدقہ ہوتا ہے۔“ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود اپنی ذات ہی مراد تھی؟“ جو حضرات وہاں موجود تھے سب نے کہا: ”ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرور ایسا فرمایا تھا۔“ اس کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرور ایسا فرمایا تھا۔“ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب میں آپ لوگوں سے اس معاملے میں گفتگو کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مال فے میں سے کچھ حصہ مخصوص فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ﴾ [سورة الحشر: 6] سے ﴿قَدِيرٌ﴾ [سورة الحشر: 6] تک۔ یہ حصہ خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے سوا کسی کے لیے اسے محفوظ نہیں کیا اور نہ تم پر کسی دوسرے کو ترجیح ہی دی۔ یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین تمہیں دی اور تم میں ہی تقسیم کی حتیٰ کہ اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو مقرر کردہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل زندگی بھر قائم رہا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا آپ لوگوں کو اس کا علم ہے؟“ حاضرین نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”میں تمہیں بھی اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا آپ لوگ بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، ہمیں اس کا علم ہے۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے امور) کا متولی ہوں“، چنانچہ انہوں نے وہ مال اپنے قبضے میں کر لیا اور اس طرز عمل کو جاری رکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سر انجام دیتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو وفات دی تو میں نے کہا: ”اب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کا نائب ہوں۔“ میں بھی دو سال تک اس پر قابض رہا اور اس مال میں وہی کچھ کرتا رہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا؛ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے، (اے عباس!) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے اور یہ (علی) اپنی بیوی کے حصے کے طلبگار تھے جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا۔ میں دے دیتا ہوں۔ (اس شرط پر کہ تم یہ مال انہیں مصارف میں خرچ کرو گے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے) لیکن اب تم مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ چاہتے ہو (کہ ان کو آدھا آدھا تقسیم کر دوں؟) اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں! میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے؛ اگر آپ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتے تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیں میں (جہاں دوسرے سارے انتظامات کرتا ہوں اس کا بھی بندوبست کر لوں گا)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6728]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6729
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6729]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے وارث کوئی دینار تقسیم نہ کریں۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچے اور عاملین کی تنخواہوں کے بعد جو چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6729]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6730
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، اپنی میراث طلب کرنے کے لیے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلایا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6730]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تاکہ ان سے اپنی وراثت کا مطالبہ کریں۔ (اس وقت) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (انہیں یاد دلاتے ہوئے) کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6730]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة