🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ:
باب: سائبہ وہ غلام یا لونڈی جس کو مالک آزاد کر دے اور کہہ دے کہ تیری ولاء کا حق کسی کو نہ ملے گا کی وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6753
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوقیس نے، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6753]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مسلمان سائبہ نہیں بناتے (بتوں کے نام پر جانور نہیں چھوڑتے۔) دورِ جاہلیت میں مشرکین (بتوں کے نام پر) آزاد کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6754
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ" أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا، قَالَ وَخُيِّرَتْ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ"، قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا". قَوْلُ الْأَسْوَدِ: مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا: أَصَحُّ.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6754]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدا تو اس کے آقاؤں نے شرط عائد کر دی کہ اس کی ولا ان کے لیے ہوگی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن اس کے آقاؤں نے اپنے لیے اس کی ولا کو مشروط کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو آزاد کر دے۔ ولا تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ یا فرمایا: قیمت ادا کرنے والے کے لیے ولا ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خرید کر آزاد کر دیا۔ پھر اسے اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں اور اس سے علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا: اگر مجھے اتنا مال دیا جائے تو بھی اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کروں گی۔ اسود نے کہا: اس کا شوہر آزاد تھا۔ ان کا قول منقطع ہونے کی وجہ سے قابلِ حجت نہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح تر ہے کہ میں نے اسے غلام دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں