موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أُحْصِرَ بِغَيْرِ عَدُوٍّ
جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رُک جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 803B6
قَالَ مَالِك فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ مَرِضَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَحْضُرَ مَعَ النَّاسِ الْمَوْقِفَ، قَالَ مَالِك: إِذَا فَاتَهُ الْحَجُّ فَإِنِ اسْتَطَاعَ خَرَجَ إِلَى الْحِلِّ، فَدَخَلَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِأَنَّ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ لَمْ يَكُنْ نَوَاهُ لِلْعُمْرَةِ، فَلِذَلِكَ يَعْمَلُ بِهَذَا وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص احرام باندھے حج کا مکہ سے، پھر طواف کرے خانۂ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں، بعد اس کے بیمار ہو جائے اور لوگوں کے ساتھ عرفات نہ جا سکے تو جب فوت ہو جائے حج اس کا، حرم کے باہر اگر ہو سکے نکل کر عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور طواف و سعی کر کے احرام کھول ڈالے، کیونکہ پہلا طواف اور سعی عمرہ کا نہ تھا، پھر سال آئندہ حج کرے اور ہدی دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 803B6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 104ق1»
حدیث نمبر: 803B7
فَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَصَابَهُ مَرَضٌ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ حَلَّ بِعُمْرَةٍ وَطَافَ بِالْبَيْتِ طَوَافًا آخَرَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِأَنَّ طَوَافَهُ الْأَوَّلَ وَسَعْيَهُ إِنَّمَا كَانَ نَوَاهُ لِلْحَجِّ وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر وہ شخص مکہ کا رہنے والا نہ ہو اور کسی مرض کی وجہ سے حج نہ کر سکے، اور طواف اور سعی کر چکا ہو تو عمرہ کر کے احرام کھول ڈالے، لیکن عمرہ کے لیے دوبارہ طواف اور سعی کرے، اس واسطے کہ پہلا طواف اور سعی عمرہ سے متعلق نہ تھا، بلکہ حج کی نیت سے تھا، اب سالِ آئندہ حج کرے اور ہدی کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 803B7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 104ق1»