🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّحْرِ فِي الْحَجِّ
حج میں نحر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِنًى: " هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ"، وَقَالَ:" فِي الْعُمْرَةِ هَذَا الْمَنْحَرُ يَعْنِي الْمَرْوَةَ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ، وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منیٰ کو: نحر کی جگہ یہ ہے، اور ساری منیٰ نحر کی جگہ ہے۔ اور عمرہ میں کہا مروہ کو: نحر کی جگہ یہ ہے، اور سب راستے مکہ کے نحر کی جگہ ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم 1218، و أبو داود: 1936، 1937، و ابن ماجه: 3048، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 877، 1499، 8826، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6357، 24710، والحميدي فى «مسنده» برقم: 203، 204، 205، 207، 208، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 178»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَزْوَاجِهِ . قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب پانچ راتیں باقی رہی تھیں ذیقعدہ کی، اور ہم کو گمان یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو نکلے ہیں، جب ہم نزدیک ہوئے مکہ سے تو حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس کے ساتھ ہدی نہ تھی کہ طواف اور سعی کر کے احرام کھول ڈالے۔ کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے: یوم النحر کے دن ہمارے پاس گوشت آیا گائے کا، تو میں نے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے نحر کیا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 883]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1709، 1720، 2952، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1211، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 242، 289، 347، 389، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1778، 1782، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2963، 2981، 3000، وأحمد فى «مسنده» برقم: 26317، والدارمي: 1904، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 179»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 884
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ"
اُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور آپ نے عمرہ کر کے اپنا احرام نہیں کھولا؟ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: میں نے تلبید کی اپنے سر کی (تلبید کہتے ہیں سر کے بالوں کو جما لینے کو گوند یا لعاب خطمی وغیرہ سے تاکہ بال پریشان نہ ہوں) اور تقلید کی اپنی ہدی کی، تو میں احرام نہ کھولوں گا جب تک نحر نہ کر لوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 884]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1566، 1697، 1725، 4398، 5916، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1229، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3925، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2683، 2782، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3648، 3747، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1806، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3046، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8933، 8934، 8935، 9679، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27067، 27075، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 180»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں