🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ
قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: نہ چاہے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی تاکہ خالی کرے پیالہ اس کا بلکہ نکاح کر لے، کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے اس کو ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2140، 2148، 2150، 2151، 2160، 2162، 2723، 2727، 5109، 5110، 5152، 6066، 6601، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1408، 1413، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4046، 4048، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4510، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2065، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1190، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 647، 650، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7247، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1056، 1057، 1058، 1059، فواد عبدالباقي نمبر: 46 - كِتَابُ الْقَدَرِ-ح: 7»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1625
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ " لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللَّهُ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ" . ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ.
حضرت محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے منبر پر کہا: اے لوگوں! جو اللہ جل جلالہُ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے، اور کسی طاقت والے کی طاقت کام نہیں آتی (یعنی اس کی طاقت اس کے عذاب کو روک نہیں سکتی یا اس کی مالداری اس کے کام نہیں آتی، صرف اعمال کام آئیں گے)، جس شخص کو اللہ بھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے، اور علمِ فقہ دیتا ہے۔ پھر کہا معاویہ نے: میں نے ان کلمات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا انہیں لکڑیوں پر (منبر شریف پر)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه والطبراني فى «الكبير» برقم: 782، 783، 784، 785، 786، 787، 792، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1684، 1685، 1690، بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 349/1، البيهقي فى «القضاء والقدر» ص: 308
شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، نیز دیکھئے البخاري: 71، 844، مسلم: 593، 1037، فواد عبدالباقي نمبر: 46 - كِتَابُ الْقَدَرِ-ح: 8»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يَنْبَغِي، الَّذِي لَا يَعْجَلُ شَيْءٌ أَنَاهُ وَقَدَّرَهُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَكَفَى سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ دَعَا، لَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمَى.
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ یوں کہا کرتے تھے کہ سب خوبیاں اس اللہ کی ہیں جس نے پیدا کیا ہر شئے کو جیسے چاہیے، جو وقت مقرر کر دیا ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہو سکتی، کافی ہے مجھ کو اللہ اور کافی ہے ایسا کافی، سنتا ہے اللہ جو اس کو پکارے، اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جس سے دعا کیا جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 3203، فواد عبدالباقي نمبر: 46 - كِتَابُ الْقَدَرِ-ح: 9»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إِنَّ أَحَدًا لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ پہلے زمانے میں یوں کہا جاتا تھا کہ کوئی آدمی نہیں مرے گا جب تک کہ اس کا رزق پورا نہ ہو، پس اختصار کرو طلبِ معاش میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 2144،، فواد عبدالباقي نمبر: 46 - كِتَابُ الْقَدَرِ-ح: 10»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں