🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

242. أَنَا النَّذِيرُ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ
میں ڈر سنانے والا ہوں، موت تباہی مچانے والی ہے اور قیامت وعدے کا وقت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
333 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عِيسَى السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَاغِنْدِيُّ، قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَا بَنِي هَاشِمَ، يَا بَنِي قُصَيٍّ أَنَا النَّذِيرُ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اے بنو قصی! میں ڈر سنانے والا ہوں، موت تباہی مچانے والی ہے اور قیامت وعدے کا وقت ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابويعلي: 6149، والاهوال لابن أبى الدنيا: 2، والبعث لابن ابى داود: 3»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش اور ان کے ساتھ اپنے خاندان کو ڈرانے کا ذکر ہے۔ بنو ہاشم سے مراد آپ کے چچا اور ان کی اولاد ہے اور بنو قصی سے عام قریش مراد ہیں۔ آپ نے ان سب کو جمع کر کے دعوت اسلام پیش کی اور ان کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ﴾ (الشعراء: 214) ”اور آپ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیں۔“ نازل ہوئی تو آپ نے قریش کو آواز دی وہ سب جمع ہو گئے۔ آپ نے عام و خاص سبھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے بنی کعب بن لوی! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچالو، اے بنی مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچالو، اے بنی عبد شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچالو، اے بنی عبد المطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچالو، اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو، میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ البتہ جو حق قرابت ہے میں اسے احسان کے ساتھ نبھاتا رہوں گا۔ [مسلم: 204]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ﴾ (الشعراء: 214) نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز دینے لگے: بنو فہر! بنو عدی! وہ سب اکٹھے ہو گئے تو آپ نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر میں تم کو خبر دوں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں ڈرانے والا (آگاہ کرنے والا) ہوں۔“ ابولہب نے کہا: باقی دن تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے اس لیے ہم کو جمع کیا تھا؟ تب سورت لہب نازل ہوئی۔ [بخاري: 4770 ؛ مسلم: 207]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں