🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

243. مَنْ صَمَتَ نَجَا
جس نے خاموشی اختیارکی وہ نجات پا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
334 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَمَتَ نَجَا»
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے خاموشی اختیار کی وہ نجات پا گیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ترمذي: 2501، وأحمد: 2/ 177، والطبراني فى «الكبير» برقم: 14697، 14698، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1933»
وضاحت: تشریح: -
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی فصل الخطاب، جوامع الکلم اور جواہر الکلم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں معانی کے پوشیدہ سمندروں کی معرفت صرف اہل علم ہی کو حاصل ہو سکتی ہے۔ زبان کے خطرات بہت زیادہ ہیں اور ہر خطرہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے، اس کی آفات ان گنت ہیں، خطا، کذب، چغلی، غیبت، ریاء، شہرت، نفاق، فحش گوئی، جدال اور باطل میں انہمام وغیرہ سب آفات لسان میں سے ہیں جن سے بچنے کا واحد ذریعہ خاموشی ہے۔ انسان اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے تو نجات پا جائے گا۔ محاور ہ ہے کہ ایک چپ لاکھ بلائیں ٹالتی ہے۔ لہٰذا زبان کو کلمہ خیر کے لیے ہی کھولنا چاہیے ورنہ چپ رہنے میں ہی عافیت ہے۔
حدیث مبارک ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ [بخاري: رقم 6018]
اور دوسری حدیث ہے: ”اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ذکر اللہ کے علاوہ زیادہ کلام دل کی سختی کا باعث ہے اور سخت دل آدمی سب سے زیادہ اللہ سے دور ہوگا۔“ ( [ترمذي: 2211، حسن]
امر بالمعروف، نہی عن المنکر، کلمہ خیر اور حق گوئی یہ سب ذکر الہی ہی کی اقسام ہیں۔

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں