صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ الرُّؤْيَا بِالنَّهَارِ:
باب: دن کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: Q7001
وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ رُؤْيَا النَّهَارِ مِثْلُ رُؤْيَا اللَّيْلِ.
اور ابن عون نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ دن کے خواب بھی رات کے خواب کی طرح ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: Q7001]
حدیث نمبر: 7001
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7001]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا اور (عورتوں کی عادت کے مطابق) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7001]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7002
قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے پیش کئے گئے، اس دریا کی پشت پر، وہ اس طرح سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ اسحاق کو شک تھا (حدیث کے الفاظ «ملوكا على الأسرة» تھے یا «مثل الملوك على الأسرة» انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی پھر آپ نے سر مبارک رکھا (اور سو گئے) پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے پیش کئے گئے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی۔ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر گئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7002]
انہوں نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا: ”اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں، وہ سمندر کے وسط میں اس طرح سوار ہیں، گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔“ ام ملحان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں۔“ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! دعا فرمائیں مجھے بھی اللہ ان میں سے کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی۔“ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندری سفر پر روانہ ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7002]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة