صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ مَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ مِنَ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِهَا:
باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q590
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ كُرَيْبٌ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: شَغَلَنِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ.
اور کریب نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا کہ بنو عبدالقیس کے وفد سے گفتگو کی وجہ سے ظہر کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: Q590]
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں (صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 590]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس (اللہ) کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے لے گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت کبھی ترک نہیں فرمائیں تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے جا ملے اور جب اللہ سے ملے تو اس وقت بوجہ ضعف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے تھک جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نماز کی ادائیگی بیٹھ کر فرماتے تھے، یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، لیکن انہیں مسجد میں نہیں پڑھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر گراں نہ گزرے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے حق میں تخفیف پسند تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَتْ عَائِشَةُ ابْنَ أُخْتِي" مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بھانجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات میرے یہاں کبھی ترک نہیں کیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 591]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے (عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے) فرمایا تھا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعات میرے ہاں کبھی ترک نہیں فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً، رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 592]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات فجر سے پہلے اور دو رکعات عصر کے بعد پوشیدہ اور آشکارا دونوں حالتوں میں کبھی ترک نہ فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ رَأَيْتُ الأَسْوَدَ، وَمَسْرُوقًا شَهِدَا عَلَى عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فِي يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے بیان کیا، کہا کہ ہم نے اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع کو دیکھا کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس کہنے پر گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر میں عصر کے بعد تشریف لائے تو دو رکعت ضرور پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 593]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے ہاں تشریف لاتے تو دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة