🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب ما يصلى بعد العصر من الفوائت ونحوها:
باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَتْ عَائِشَةُ ابْنَ أُخْتِي" مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بھانجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات میرے یہاں کبھی ترک نہیں کیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 591]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے (عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے) فرمایا تھا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعات میرے ہاں کبھی ترک نہیں فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 591 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 591
حدیث حاشیہ:
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لا کر ان کو پڑھ لیا کرتے تھے، اوریہ عمل آپ کے ساتھ خاص تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 591]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 591
تشریح:
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لا کر ان کو پڑھ لیا کرتے تھے، اور یہ عمل آپ کے ساتھ خاص تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 591]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:591
حدیث حاشیہ:
(1)
اس واقعے کی ابتدا حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر سے ہوئی تھی، پھر اس کی ادائیگی پر دوام سیدہ عائشہ ؓ کے گھر میں ہوا۔
یہی وجہ ہےکہ اگر کسی موقع پر ان رکعات کے متعلق تحقیق کی گئی تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کا حوالہ دیا اور آپ نے خود ان کے متعلق پوری ذمے داری نہیں اٹھائی، چنانچہ عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں:
میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا اور وہ اس سلسلے میں حضرت عائشہ ؓ کا حوالہ دیتے تھے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ ؓ کے گھر آتے آپ انھیں ضرور ادا فرماتے اور اسے حضرت عائشہ ؓ نے خود بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1631)
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ عصر کے بعد ان دورکعات کی ادائیگی کا بڑی شدت سے اہتمام فرماتے تھے، چنانچہ آپ کے اس عمل کے متعلق تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اگرچہ عبداللہ بن زبیرؓ حضرت عائشہ ؓ کا حوالہ دیتے ہیں، تاہم اصل تحقیقی خبر حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس ہے۔
(2)
اس سے متعلق دو تفصیلی روایات مسند احمد (6/299 اور6/303)
میں موجود ہیں۔
ان تفصیلی روایات سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصر کے بعد دورکعت پڑھنا اور اس پر دوام کرنا آپ کی خصوصیت پر محمول ہے، لیکن عبداللہ بن زبیر ؓ اسے بطور اسوہ اور نمونہ خیال کرتے ہوئے اس عمل پر زندگی بھر کاربند رہے۔
سنن نسائی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ انھیں غروب آفتاب سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
(سنن النسائي، المواقیت، حدیث: 582)
والله أعلم بحقيقة الحال.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 591]

Sahih Bukhari Hadith 591 in Urdu