مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
907. اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا
اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت فرما
حدیث نمبر: 1489
1489 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُسَاوِرٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا تَطْلُبَنَّ حَاجَةً إِلَى أَعْمَى، وَلَا تَطْلُبَنَّهَا لَيْلًا، وَإِذَا طَلَبْتَ الْحَاجَةَ فَاسْتَقْبِلِ الرَّجُلَ بِوَجْهِكَ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ فِي الْعَيْنَيْنِ وَبَاكِرْ حَاجَتَكَ» فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نابینا آدمی سے حاجت ہرگز نہ طلب کرو اور رات کے وقت بھی حاجت ہرگز نہ طلب کرو اور جب تم نے حاجت طلب کرنی ہو تو اس آدمی سے اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہو کیونکہ حیا دونوں آنکھوں میں ہوتی ہے اور صبح کے وقت اپنی حاجت کے لیے نکلو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت فرما۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه بزار: 5312، المعجم الكبير: 12966، شعب الايمان: 7357, 7358»
عمر بن مساور عتکی ضعیف ہے۔
عمر بن مساور عتکی ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1490
1490 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّلْحِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت فرما۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الصغير: 309، عبد بن حميد: 757»
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر متروک اور ابن ابی اویس ضعیف ہے۔
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر متروک اور ابن ابی اویس ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 1491
1491 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه أبو داود: 2606، والترمذي: 1212، وابن ماجه: 2236، ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4754، 4755،وأحمد فى «مسنده» برقم: 15677، 15682»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1492
1492 - أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْهَاشِمِيُّ، نا أَبِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ جَدِّهَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ خَمِيسِهَا»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے جمعرات کے دن صبح کے وقت میں برکت فرما۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تاريخ دمشق: 170/69، والعلل المتناهية: 513»
عبد الصمد بن موسیٰ ضعیف ہے۔ اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
عبد الصمد بن موسیٰ ضعیف ہے۔ اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1493
1493 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت فرما۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه أبو داود: 2606، والترمذي: 1212، وابن ماجه: 2236، ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4754، 4755،وأحمد فى «مسنده» برقم: 15677، 15682»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1494
1494 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَهْرَيَارَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِيذَةَ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ الْأَشْجَعِيُّ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِصْرَ فِي جِيزَتِهَا، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ، عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ، قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نُبَيْطٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ وَلَدُهُ عَنْهُ
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کے صبح کے وقت میں برکت فرما۔“ طبرانی نے کہا: نبیط سے یہ حدیث صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے، اسے ان کا بیٹا ان سے بیان کرنے میں منفرد ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الصغير: 65،»
أحمد بن اسحاق بن ابراہیم کذاب ہے۔ اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
أحمد بن اسحاق بن ابراہیم کذاب ہے۔ اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے صبح کے اوقات میں برکت کی دعا کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ان تمام دینی و دنیاوی کاموں میں برکت فرما دے جو وہ صبح صبح کیا کریں۔ اس سے پتا چلا کہ صبح کا وقت بڑا مبارک ہے جو کام اس وقت کیا جائے امید ہے کہ اس میں برکت ہوگی۔
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو صبح کے وقت روانہ فرماتے۔ صحابی رسول سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے۔ وہ بھی اپنا تجارتی قافلہ صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے چنانچہ وہ خوشحال ہو گئے اور ان کا مال زیادہ ہو گیا۔ [أبو داود: 2608، حسن]
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے صبح کے اوقات میں برکت کی دعا کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ان تمام دینی و دنیاوی کاموں میں برکت فرما دے جو وہ صبح صبح کیا کریں۔ اس سے پتا چلا کہ صبح کا وقت بڑا مبارک ہے جو کام اس وقت کیا جائے امید ہے کہ اس میں برکت ہوگی۔
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی فوجی دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو صبح کے وقت روانہ فرماتے۔ صحابی رسول سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے۔ وہ بھی اپنا تجارتی قافلہ صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے چنانچہ وہ خوشحال ہو گئے اور ان کا مال زیادہ ہو گیا۔ [أبو داود: 2608، حسن]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا