مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
2. بَابُ بَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَبْطُلُ بِمُرُورِ الْحِمَارِ
باب گدھے کے گزرنے سے نماز کے نہ ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 9
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُدْلِجِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بَيْنَ أَيْدِينَا حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّكُمْ سَبَّحَ؟"، قَالَ عَيَّاشٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی کہ ہمارے آگے سے (دوران نماز) گدھا گزرا تو عیاش نے «سبحان الله» کہا جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر چکے تو آپ نے پوچھا: تم میں سے «سبحان الله» کس نے کیا؟ عیاش نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اور میں نے سنا ہے گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «ديكهئے حديث نمبر 7، اس سند ميں دور علتيں هيں: 1. وليد بن مسلم الاموي الدمشقي مدلس هے. 2. عمر بن عبد العزيز رحمه الله كي عياش بن ابو ربيعه سے روايت مرسل هے.»