🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. ‏(‏79‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ
بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q102
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ خَرَاطِيمَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ مِنَ السِّبَاعِ، وَمِمَّا لَا يَجُوزُ أَكْلُ لَحْمِهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطُّيُورِ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ وَلَا نَجَاسَةَ مَرْئِيَّةٌ بِخَرَاطِيمِهَا وَمَنَاخِيرِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ الْهِرَّةَ تَأْكُلُ الْفَأْرَ، وَقَدْ أَبَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ سُؤْرِهَا، فَدَلَّتْ سُنَّتُهُ عَلَى أَنَّ خُرْطُومَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَنْجُسْ ذَلِكَ خَلَا الْكَلْبِ الَّذِي قَدْ حَضَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَمْرِ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ سَبْعًا، وَخَلَا الْخِنْزِيرِ الَّذِي هُوَ أَنْجَسُ مِنَ الْكَلْبِ أَوْ مِثْلُهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ مردار کھانے والے درندوں کی سونڈیں اور وہ چوپائے اور پرندے جن کا گوشت کھانا حرام ہے، جب یہ اس پانی کو چھولیں، (اس سے پی لیں) جو دو مٹکوں سے کم ہو اور ان کی سونڈوں اور چونچوں پر نجاست نظرنہ آ ئے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ بلّی چوہے کھاتی ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جوٹھے پانی سے وضو کرنا جائز رکھا ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اس بات کی دلیل ہے کہ مردار کھانے والے جانوروں کی سونڈیں جب دو مٹکوں سے کم پانی کو چھولیں تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا، سوائے کُتّے کے، جس کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اور خنزیر کے سوا، جو کُتّے سے بھی زیادہ یا اُس جیسا ناپاک ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: Q102]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ ابْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُمَّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ". يَعْنِي: الْهِرَّةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: بیشک وہ ناپاک نہیں ہے، وہ تو گھر والوں (غلاموں، لونڈیوں) کی طرح ہے، یعنی بِلّی۔ امام ذہبی میزان میں فرماتے ہیں کہ سلیمان بن مسافع مجھول ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 102، وأبو داود فى (سننه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1185، 1186، والدارقطني فى (سننه) برقم: 198، 216، 217، 218، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4951، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 355، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 50، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2653، 2654، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 364، 7949»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ ابْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ " يَتَوَضَّأُ مِنَ الإِنَاءِ وَالْهِرَّةُ تَشْرَبُ مِنْهُ" . وَقَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِرَّةُ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ"
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ برتن سے وضو کیا کرتے تھے جبکہ بِلّی اس سے پی رہی ہوتی تھی۔ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِلّی گھر کے متاع سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ"
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے تو میں نے اُن کے لیے وضو کا پانی (برتن میں) ڈالا، (اسی دوران) ایک بِلّی آئی اور اُس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بِلّی کے لیے برتن جُھکادیا حتیٰ کہ اُس نے (سیر ہو کر پانی) پی لیا۔ سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اُنہوں نے مجھے اپنی طرف (تعجب بھری نظروں سے) دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میری بھتیجی، کیا تم (اس منظرپر) تعجب کرتی ہو؟ وہ کہتی ہیں، میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنہوں نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ نجس نہیں ہے۔ وہ تو تم پر چکّر لگانے والے (غلاموں) یا چکّر لگانے والیوں (لونڈیوں) میں سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں