🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. ‏(‏79‏)‏ باب الرخصة فى الوضوء بسؤر الهرة
بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ"
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے تو میں نے اُن کے لیے وضو کا پانی (برتن میں) ڈالا، (اسی دوران) ایک بِلّی آئی اور اُس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بِلّی کے لیے برتن جُھکادیا حتیٰ کہ اُس نے (سیر ہو کر پانی) پی لیا۔ سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اُنہوں نے مجھے اپنی طرف (تعجب بھری نظروں سے) دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میری بھتیجی، کیا تم (اس منظرپر) تعجب کرتی ہو؟ وہ کہتی ہیں، میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنہوں نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ نجس نہیں ہے۔ وہ تو تم پر چکّر لگانے والے (غلاموں) یا چکّر لگانے والیوں (لونڈیوں) میں سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥كبشة بنت كعب الأنصارية
Newكبشة بنت كعب الأنصارية ← الحارث بن ربعي السلمي
صحابية
👤←👥حميدة بنت عبيد الأنصارية، أم يحيى
Newحميدة بنت عبيد الأنصارية ← كبشة بنت كعب الأنصارية
مقبول
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← حميدة بنت عبيد الأنصارية
ثقة حجة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 104 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 104
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ بلی اور بلی کا جھوٹا پاک ہے اور بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو برتن کا طعام و مشروب ناپاک نہیں ہوتا، اسے استعمال میں لانا درست ہے۔
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ صحابہ و تابعین اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی موقف ہے کہ بلی کا جھوٹا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یعنی ان ائمہ کے نزدیک بلی کا جھوٹا بلا کراہت پاک ہے۔
نیز مالک مع اہل مدینہ، لیث و اہل مصر، اوزاعی اور اہل شام، ثوری اور ان کے ہم مسلک اہل عراق، شافعی اور ان کے موافقین، احمد، اسحاق، ابوثور، ابوعبید، علقمہ، ابراہیم نخعی، عطاء بن یسار اور حسن بصری رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔
◈ زاہدی نے مختصر القدوری کی شرح میں اور طحاوی نے تعلیق المسجد میں امام محمد سے بھی یہ قول نقل کیا ہے۔
لیکن احناف کا موقف ہے کہ بلی کا جھوٹا مع کراہت پاک ہے۔
اول الذکر علماء نے احادیث الباب سے استدلال کیا ہے اور ان کا موقف راجح اور قرین صواب ہے۔ [تحفة الأحوذي: 226/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 104]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 104 in Urdu