صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. (79) باب الرخصة فى الوضوء بسؤر الهرة
بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: Q102
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ خَرَاطِيمَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ مِنَ السِّبَاعِ، وَمِمَّا لَا يَجُوزُ أَكْلُ لَحْمِهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطُّيُورِ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ وَلَا نَجَاسَةَ مَرْئِيَّةٌ بِخَرَاطِيمِهَا وَمَنَاخِيرِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ الْهِرَّةَ تَأْكُلُ الْفَأْرَ، وَقَدْ أَبَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ سُؤْرِهَا، فَدَلَّتْ سُنَّتُهُ عَلَى أَنَّ خُرْطُومَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَنْجُسْ ذَلِكَ خَلَا الْكَلْبِ الَّذِي قَدْ حَضَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَمْرِ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ سَبْعًا، وَخَلَا الْخِنْزِيرِ الَّذِي هُوَ أَنْجَسُ مِنَ الْكَلْبِ أَوْ مِثْلُهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ مردار کھانے والے درندوں کی سونڈیں اور وہ چوپائے اور پرندے جن کا گوشت کھانا حرام ہے، جب یہ اس پانی کو چھولیں، (اس سے پی لیں) جو دو مٹکوں سے کم ہو اور ان کی سونڈوں اور چونچوں پر نجاست نظرنہ آ ئے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ بلّی چوہے کھاتی ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جوٹھے پانی سے وضو کرنا جائز رکھا ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اس بات کی دلیل ہے کہ مردار کھانے والے جانوروں کی سونڈیں جب دو مٹکوں سے کم پانی کو چھولیں تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا، سوائے کُتّے کے، جس کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اور خنزیر کے سوا، جو کُتّے سے بھی زیادہ یا اُس جیسا ناپاک ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q102]
حدیث نمبر: 102
نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ ابْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُمَّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ". يَعْنِي: الْهِرَّةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”بیشک وہ ناپاک نہیں ہے، وہ تو گھر والوں (غلاموں، لونڈیوں) کی طرح ہے، یعنی بِلّی۔“ امام ذہبی میزان میں فرماتے ہیں کہ سلیمان بن مسافع مجھول ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 102، وأبو داود فى (سننه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1185، 1186، والدارقطني فى (سننه) برقم: 198، 216، 217، 218، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4951، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 355، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 50، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2653، 2654، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 364، 7949»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 102 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق