🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

150. ‏(‏149‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ موزوں پر مسح کرنے کاحکم جواز کے لیے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q195
أَنَّ الْمَسْحَ يَقُومُ مَقَامَ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ، إِذَا كَانَ الْقَدَمُ بَادِيًا غَيْرَ مُغَطًّى بِالْخُفِّ، وَإِنَّ خَالِعَ الْخُفِّ وَإِنْ كَانَ لَبِسَهُ عَلَى طَهَارَةٍ، إِذَا غَسَلَ قَدَمَيْهِ كَانَ مُؤَدِّيًا لِلْفَرْضِ غَيْرَ عَاصٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ تَارِكًا لِلْمَسْحِ رَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏.‏
مسح دونوں قدم دھونے کے قائم مقام ہوگا جبکہ قدم کُھلے ہوئے ہوں اور موزوں سے ڈھانپے ہوئے نہ ہوں، اور اگر وہ موزه اتار دے، اگرچہ اس نے طہارت کی حالت میں پہنا ہو، تو جب وہ دونوں پاؤں دھولے گا تو وہ فرض ادا کرے گا، وہ گناہ گار نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت سے بے رغبتی کرتے ہوئے مسح نہ کرے (تو پھر گناہ گار ہوگا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ/حدیث: Q195]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
نا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، نا أَبِي ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِي ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثَةِ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِلْحَاضِرِ" يَعْنِي: فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی ہے، مسافر کے لئے تین دن (رات) اور مقیم کے لئے ایک دن رات۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 276، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 194، 195، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1322، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 128، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 130، والدارمي فى (مسنده) برقم: 741، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 552، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1307، والدارقطني فى (سننه) برقم: 784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 759»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں