صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. (149) باب ذكر الدليل على أن الأمر بالمسح على الخفين أمر إباحة،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ موزوں پر مسح کرنے کاحکم جواز کے لیے ہے
حدیث نمبر: Q195
أَنَّ الْمَسْحَ يَقُومُ مَقَامَ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ، إِذَا كَانَ الْقَدَمُ بَادِيًا غَيْرَ مُغَطًّى بِالْخُفِّ، وَإِنَّ خَالِعَ الْخُفِّ وَإِنْ كَانَ لَبِسَهُ عَلَى طَهَارَةٍ، إِذَا غَسَلَ قَدَمَيْهِ كَانَ مُؤَدِّيًا لِلْفَرْضِ غَيْرَ عَاصٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ تَارِكًا لِلْمَسْحِ رَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مسح دونوں قدم دھونے کے قائم مقام ہوگا جبکہ قدم کُھلے ہوئے ہوں اور موزوں سے ڈھانپے ہوئے نہ ہوں، اور اگر وہ موزه اتار دے، اگرچہ اس نے طہارت کی حالت میں پہنا ہو، تو جب وہ دونوں پاؤں دھولے گا تو وہ فرض ادا کرے گا، وہ گناہ گار نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت سے بے رغبتی کرتے ہوئے مسح نہ کرے (تو پھر گناہ گار ہوگا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: Q195]
حدیث نمبر: 195
نا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، نا أَبِي ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِي ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثَةِ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِلْحَاضِرِ" يَعْنِي: فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی ہے، مسافر کے لئے تین دن (رات) اور مقیم کے لئے ایک دن رات۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 276، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 194، 195، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1322، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 128، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 130، والدارمي فى (مسنده) برقم: 741، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 552، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1307، والدارقطني فى (سننه) برقم: 784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 759»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 195 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 195
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔ [نيل الأوطار: 201/1]
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم اور فقہاء میں سے سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مذہب ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین رات مسح کرے گا۔
اور بعض اہل علم موزوں پر معینہ مدت کے قائل نہیں ہیں۔
لیکن مدت کی تعیین کے بارے میں (جمہور علماء کا) موقف راجح ہے۔ [سنن الترمذي، تحت حديث: 96]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔ [نيل الأوطار: 201/1]
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم اور فقہاء میں سے سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مذہب ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین رات مسح کرے گا۔
اور بعض اہل علم موزوں پر معینہ مدت کے قائل نہیں ہیں۔
لیکن مدت کی تعیین کے بارے میں (جمہور علماء کا) موقف راجح ہے۔ [سنن الترمذي، تحت حديث: 96]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 195]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 195 in Urdu
شريح بن هانئ الحارثي ← علي بن أبي طالب الهاشمي