صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
185. (184) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ لَا وَقْتَ فِيمَا يَغْتَسِلُ بِهِ الْمَرْءُ مِنَ الْمَاءِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی شخص کے غسل کے لیے پانی کی مقدار متعین نہیں ہے
حدیث نمبر: Q236
فَيُضَيِّقُ الزِّيَادَةَ فِيهِ أَوِ النُّقْصَانَ مِنْهُ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى الْمُغْتَسِلِ إِمْسَاسُ الْمَاءِ جَمِيعَ الْبَدَنِ قَلَّ الْمَاءُ أَوْ كَثُرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَائِشَةَ «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أنَا وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ»
کہ وہ اس میں کمی و بیشی کرتے ہوئے تنگی محسوس کرے، اور اس بات کی دلیل کا بیان کے جنبی شخص کو سارے جسم پر پانی بہانا لازم ہے، پانی کم ہو یا زیادہ۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ/حدیث: Q236]
حدیث نمبر: 236
نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، نا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , فَأَقُولُ: أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل (جنابت) کیا کرتے تھے۔ میں کہتی کہ میرے لیے (بھی پانی) چھوڑ دیں، میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 250، 261، 263، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 319، ومالك فى (الموطأ) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 64، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 236، 238، 239، 250، 251، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 605، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 72، وأبو داود فى (سننه) برقم: 77، 98، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1755، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 376، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 124، والدارقطني فى (سننه) برقم: 135، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24648»