🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

185. ‏(‏184‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ لَا وَقْتَ فِيمَا يَغْتَسِلُ بِهِ الْمَرْءُ مِنَ الْمَاءِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی شخص کے غسل کے لیے پانی کی مقدار متعین نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q236
فَيُضَيِّقُ الزِّيَادَةَ فِيهِ أَوِ النُّقْصَانَ مِنْهُ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى الْمُغْتَسِلِ إِمْسَاسُ الْمَاءِ جَمِيعَ الْبَدَنِ قَلَّ الْمَاءُ أَوْ كَثُرَ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَائِشَةَ «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أنَا وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ»
کہ وہ اس میں کمی و بیشی کرتے ہوئے تنگی محسوس کرے، اور اس بات کی دلیل کا بیان کے جنبی شخص کو سارے جسم پر پانی بہانا لازم ہے، پانی کم ہو یا زیادہ۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ/حدیث: Q236]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 236
نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، نا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , فَأَقُولُ: أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل (جنابت) کیا کرتے تھے۔ میں کہتی کہ میرے لیے (بھی پانی) چھوڑ دیں، میرے لیے بھی پانی چھوڑ دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں