صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ الْحُكْمِ فِي الْبِئْرِ وَنَحْوِهَا:
باب: کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا۔
حدیث نمبر: 7183
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77.
ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ‘، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (اس کی تصدیق میں) نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں“ الآية.۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7183]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے سے دوسرے کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں۔۔۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7183]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7184
فَجَاءَ الْأَشْعَثُ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَلْيَحْلِفْ، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ، فَنَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77.
اتنے میں اشعث رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ ابھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ (جھوٹی) قسم کھا لے گا۔ چنانچہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو“ الخ نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7184]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب مذکورہ حدیث بیان کر رہے ہیں تو حضرت اشعث رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے کہا: ”میرے اور ایک دوسرے شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ میرا اس سے ایک کنویں کے متعلق جھگڑا ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے) فرمایا: ”تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فریق مخالف کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔“ میں نے کہا: ”اس وقت تو وہ جھوٹی قسم اٹھا لے گا“، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُوْلَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک جو لوگ اللہ کے عہد (اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا)“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7184]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة