🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

228. ‏(‏226‏)‏ بَابُ ذِكْرِ وَطْءِ الْأَذَى الْيَابِسِ بِالْخُفِّ وَالنَّعْلِ،
خشک گندگی کو موزے اور جوتے سے روندنے کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q292
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ لَا يُوجِبُ غَسْلَ الْخُفِّ وَلَا النَّعْلِ، وَأَنَ تَطْهِيرَهُمَا يَكُونُ بِالْمَشْيِ عَلَى الْأَرْضِ الطَاهِرَةِ بَعْدَهَا
اور اس دلیل کا بیان کہ گندگی روندنے سے موزے اور جوتے کو دھونا واجب نہیں ہوتا اور ان دونوں کی صفائی اس (گندگی) کے بعد پاک زمین پر چلنے سے ہوجائے گی [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ/حدیث: Q292]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمُ الأَذَى بِخُفِّهِ أَوْ نَعْلِهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِي قِصَّةِ النَّعْلَيْنِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الصَّلاةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے موزے یا اپنے جُوتے سے گندگی روندے تو ان دونوں کی صفائی ستھرائی مٹّی ہے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب کے متعلق دو جُوتوں کے قصّے کے بارے میں ابونصر کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت، میں کتاب الصلا ۃ میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 292، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1403، 1404، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 594، 595، وأبو داود فى (سننه) برقم: 385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4314، 4315، والبزار فى (مسنده) برقم: 8435، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 289»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں