🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

233. ‏(‏231‏)‏ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مُرُورَ الْكِلَابِ فِي الْمَسَاجِدِ لَا يُوجِبُ نَضْحًا وَلَا غَسْلًا
اس دلیل کا بیان کہ مساجد میں کُتّوں کے گزرنے سے پانی چھڑکنا یا دھونا واجب نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
نا نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ ، يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: " اجْتَنِبُوا اللَّغْوَ فِي الْمَسْجِدِ" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتِ الْكِلابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ، وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي تَبُولُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا بَالَتْ
حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں بلند آواز سے فرمایا کرتے تھے کہ مسجد میں بے فائدہ باتیں کرنے سے اجتناب کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد میں رات گزارا کرتا تھا حالانکہ میں کنوارہ نوجوان تھا۔ اور کُتّے مسجد میں پیشاب کر دیا کرتے تھے اور مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس وجہ سے پانی نہیں چھڑکتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا) مطلب یہ ہے کہ کُتّے مسجد سے باہر پیشاب کرتے تھے، پیشاب کرنے کے بعد وہ مسجد میں گھومتے رہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 300، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4312، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 1713، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7992»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں