صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
233. (231) باب الدليل على أن مرور الكلاب فى المساجد لا يوجب نضحا ولا غسلا
اس دلیل کا بیان کہ مساجد میں کُتّوں کے گزرنے سے پانی چھڑکنا یا دھونا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 300
نا نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ ، يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: " اجْتَنِبُوا اللَّغْوَ فِي الْمَسْجِدِ" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتِ الْكِلابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ، وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي تَبُولُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا بَالَتْ
حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں بلند آواز سے فرمایا کرتے تھے کہ مسجد میں بے فائدہ باتیں کرنے سے اجتناب کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد میں رات گزارا کرتا تھا حالانکہ میں کنوارہ نوجوان تھا۔ اور کُتّے مسجد میں پیشاب کر دیا کرتے تھے اور مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس وجہ سے پانی نہیں چھڑکتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا) مطلب یہ ہے کہ کُتّے مسجد سے باہر پیشاب کرتے تھے، پیشاب کرنے کے بعد وہ مسجد میں گھومتے رہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 300، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4312، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 1713، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7992»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 300 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 300
فوائد:
➊ مسجد عبادت گاہ ہے، مسلمانوں کے رفاہی امور میں اس کا استعمال جائز ہے، مگر لازم ہے کہ اس کے آداب کا خاص خیال اور اہتمام کیا جائے۔
➋ جب زمین خشک ہو جائے اور نجاست ظاہر نہ ہو تو زمین پاک شمار ہوتی ہے۔
➌ نوجوانوں کو مسجد میں سونے سے اس وجہ سے روکنا کہ انہیں احتلام ہو جاتا ہے، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
➊ مسجد عبادت گاہ ہے، مسلمانوں کے رفاہی امور میں اس کا استعمال جائز ہے، مگر لازم ہے کہ اس کے آداب کا خاص خیال اور اہتمام کیا جائے۔
➋ جب زمین خشک ہو جائے اور نجاست ظاہر نہ ہو تو زمین پاک شمار ہوتی ہے۔
➌ نوجوانوں کو مسجد میں سونے سے اس وجہ سے روکنا کہ انہیں احتلام ہو جاتا ہے، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 300]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 300 in Urdu
عمر بن الخطاب العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي