صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
329. (96) بَابُ ذِكْرِ لَفْظَةٍ رُوِيَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سورۂ فاتحہ کی قرأت ترک کرنے کے متعلق مروی اس روایت کا بیان
حدیث نمبر: Q489
بِلَفْظٍ ادَّعَتْ فِرْقَةٌ أَنَّهَا دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ تَرْكَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ يَنْقُصُ صَلَاةَ الْمُصَلِّي لَا تُبْطِلُ صَلَاتَهُ وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ إِعَادَتُهَا.
جس کی بنا پر ایک فرقے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قراءت چھوڑ دینے سے نمازی کی نماز نقص آتا ہے وہ باطل نہیں ہوتی اور نہ اس پر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q489]
حدیث نمبر: 489
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ ، أَخْبَرَهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرَ تَامٍّ" ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ
حضرت ابوسائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اُس میں اُم القرآن (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، مکمل نہیں ہے۔“ تو میں نے عرض کی کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو پھر کیسے قراءت کروں؟) کہتے ہیں، تو اُنہوں نے میرا بازو دبایا اور فرمایا کہ اے فارسی، (اس وقت) تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 395، ومالك فى (الموطأ) برقم: 278، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 489، 490، 502، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 776، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 908، وأبو داود فى (سننه) برقم: 821، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2953، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 168، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2403، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1189، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7411»