🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

330. ‏(‏97‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ ‏[‏عَلَى أَنَّ‏]‏ الْخِدَاجَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ هُوَ النَّقْصُ الَّذِي لَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ مَعَهُ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ خداج جس کے متعلق بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں خبردار کیا ہے وہ ایسا نقص ہے جس کے ساتھ نماز کفایت نہیں کرتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q490
إِذِ النَّقْصُ فِي الصَّلَاةِ يَكُونُ نَقْصَيْنِ، أَحَدُهُمَا لَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ مَعَ ذَلِكَ النَّقْصِ، وَالْآخَرُ تَكُونُ الصَّلَاةُ جَائِزَةً مَعَ ذَلِكَ النَّقْصِ لَا يَجِبُ إِعَادَتُهَا، ‏‏وَلَيْسَ‏‏ هَذَا النَّقْصُ مِمَّا يُوجِبُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ مَعَ جَوَازِ الصَّلَاةِ‏.‏
کیونکہ نماز میں نقص کی دو قسمیں ہیں:ایک نقص وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے نماز کفایت نہیں کرتی-دوسرا نقص وہ ہے کہ جس کے ساتھ نماز درست ہوجاتی ہے،اس کا اعادہ کرنا لازمی نہیں ہوتا اور یہ نقص نہیں ہے جو نماز کے درست ہونے کے ساتھ ساتھ سہو کے دو سجدوں کو واجب کرتا ہوـ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يَقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" ، قُلْتُ: فَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ:" اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ يَا فَارِسِيُّ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے وہ نماز کافی نہیں ہوتی۔ وہ (عبدالرحمان) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، اگر میں اما م کے پیچھے (نماز پڑھ رہا) ہوں؟ تو اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اے فارسی (اس وقت) اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 395، ومالك فى (الموطأ) برقم: 278، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 489، 490، 502، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 776، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 908، وأبو داود فى (سننه) برقم: 821، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2953، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 168، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2403، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1189، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7411»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں