🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

654. (421) بَابُ الْمُصَلِّي يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ وَقَدْ أَصَابَهُمَا قَذَرٌ لَا يَعْلَمُ بِهِ
اس بات کا بیان کہ نمازی اپنے جوتوں میں نماز پڑھتا ہے جبکہ انہیں گندگی لگی ہوتی ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1017
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى فِي نَعْلٍ وَثَوْبٍ طَاهِرٍ عِنْدَهُ، ثُمَّ بَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّعْلَ أَوِ الثَّوْبَ كَانَ غَيْرَ طَاهِرٍ، أَنَّ مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ جَائِزٌ عَنْهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ إِعَادَتَهُ، إِذِ الْمَرْءُ إِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي ثَوْبٍ طَاهِرٍ عِنْدَهُ، لَا فِي الْمُغَيَّبِ عِنْدَ اللَّهِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَيْضًا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نُعَامَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ، فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا خَبَثٌ فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالأَرْضِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ فِيهَا" هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ أَذًى"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھارہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار دیے، توصحابہ کرام نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تم نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے؟ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے تھے تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ جو توں میں گندگی لگی ہوئی ہے (اس لئے میں نے اتار دیے) اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے، اگر انہیں گندگی لگی ہو تو انہیں زمین کے ساتھ رگڑ کر صاف کر لے پھر ان میں نماز پڑھ لے۔ یہ یزید بن ہارون کی روایت ہے، جب کہ ابوالولید کی روایت میں ہے کہ بیشک جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا تھا کہ ان میں گندگی یا پلیدگی لگی ہوئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الصَّلَاةِ عَلَى الْبُسُطِ/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 786، 1017، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2185، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 961، وأبو داود فى (سننه) برقم: 650، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4153، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11322»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں