صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
835. (602) بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي لَهَا أَمَرَ بِالْإِمْسَاكِ عَلَى نِصَالِ السَّهْمِ إِذَا مَرَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ
اس علت کا بیان جس کی وجہ سے مسجد میں تیروں کے پیکان پکڑ کر گزرنے کا حُکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 1318
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ"، أَوْ قَالَ:" فَلْيَقْبِضْ عَلَى نُصُولِهَا"
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے تیرلیکر گزرے تو اُسے چاہیے کہ وہ ان کے پھل اپنے ہاتھ میں پکڑلے، تاکہ کسی مسلمان کو ان سے تکلیف نہ پہنچے۔“ یا فرمایا کہ ”ان کے پھلوں کو پکڑلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 452، 7075، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2615، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1318، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1649، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2587، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15976، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19797»