🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد آدمی کا اپنا عمدہ لباس پہننے، خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کی فضیلت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، قَالا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَنَّ وَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ , وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ , ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ , وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ , ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْكَعَ , ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا" . يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ:" وَثَلاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةً , إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور مسواک کی اور اگر اُس کے پاس خوشبو ہو تو اُس نے خوشبو لگالی اور اپنا بہترین لباس زیب تن کیا، پھر وہ مسجد میں آیا تو اُس نے لوگوں کی گردنوں کو نہ پھلانگا، پھر اُس نے نفل نماز پڑھی جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہی، پھر جب امام تشریف لے آیا تو اُس نے خاموشی اختیار کی حتّیٰ کہ نماز ادا کرلی گئی تو یہ جمعہ اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفّارہ بن جائے گا ـ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اور مزید تین دن کے گناہوں کا کفّارہ بنے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کرتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 857، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1756، 1762، 1803، 1818، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1231، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، والترمذي فى (جامعه) برقم: 498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1025، 1090، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9615»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں