🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنے والے شخص پر ان دو رکعات کا اعادہ ضروری نہیں ہے کیونکہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دو رکعات ادا کرنا فضیلت و ثواب کا باعث ہے فرض نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1829
نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ , فَجَلَسْتُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟" قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، تو میں بھی بیٹھ گیا ـ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا ہے؟ میں نے عر ض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے آپ کو تشریف فرما دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے (اس لئے میں بھی بیٹھ گیا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ دو رکعا ت پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 444، 1163، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 714، ومالك فى (الموطأ) برقم: 559، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1824، 1825، 1826، 1827، 1829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2495، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 729، وأبو داود فى (سننه) برقم: 467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 316، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1013، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22959، والحميدي فى (مسنده) برقم: 425»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں