🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

عاشوراء کے روزے سے گناہوں کی بخشش کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا غَيْلانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْبَدٍ هُوَ الزِّمَّانِيُّ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , إِنِّي لأَحْسَبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ , وَصِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنِّي لأَحْسَبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ , فَدَلَّ أَنَّ الْعَمَلَ الصَّالِحَ قَدْ يَتَقَدَّمُ الْفِعْلَ، فَيَكُونُ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الْمُتَقَدِّمُ يُكَفَّرُ السَّنَةَ الَّتِي تَكُونُ بَعْدَهُ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشوراء کے دن کے بارے میں، میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفّارہ بنے گا اور عرفہ کے دن کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کی مغفرت کا سبب بنے گا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گنا ہوں کا کفّارہ بنتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک عمل کبھی فعل سے متقدم بھی ہوتا ہے۔ اس طرح سابقہ نیک عمل آئندہ سال کے گناہوں کا کفّارہ بن جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2087، 2117، 2126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3631، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4201، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2381، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8467، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22953»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں