🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

عاشورا کے دن کی عظمت کی لئے ماؤں کا اپنے بچّوں کا عاشورا کے دن دودھ نہ پلانا مستحب ہے۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو، کیونکہ میرا دل خالد بن ذکوان کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حضرت ربیح بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ارد گرد کی انصاری بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس شخص نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے تو وہ اپنا روزہ مکمّل کرے اور جس نے بغیر روزہ رکھے صبح کی ہے تو وہ باقی دن (روزے دار کی حیثیت سے) مکمّل کرے تو ہم اس کے بعد اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچّوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم اُنہیں مسجد میں لے جاتے اور اُنہیں روئی سے کھلونے بنا دیتے۔ جب اُن میں سے کوئی ایک (بھوک کی وجہ سے) روتا تو ہم اُسے وہی کھلونا دے دیتے حتّیٰ کہ افطاری کا وقت ہوتا (تو اُسے دودھ دیتے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 1960، أخرجه مسلم 1136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2088، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3611»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ , حَدَّثَنَا غَلِيلَةُ بِنْتُ أُمَيْنَةَ أَمَةُ اللَّهِ وَهِيَ بِنْتُ رُزَيْنَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لأُمِّي: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَاشُورَاءَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُعَظِّمُهُ , وَيَدْعُو بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ فَاطِمَةَ , فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ , وَيَأْمُرُ أُمَّهَاتِهِنَّ أَلا يُرْضِعْنَ إِلَى اللَّيْلِ"
غلیلہ بنت امینہ امتہ اللہ بنت رزینہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشوراء کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ آپ اس دن کی تعظیم کرتے تھے۔ آپ اپنے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شیر خوار بچّوں کو بلاتے اور اُن کے مُنہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالتے اور اُن کی ماؤں کو حُکم دیتے کہ انہیں شام تک دودھ نہ پلائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2089، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7162، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 704، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2568»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ , وَهَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ الْعَتَكِيَّةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَيْنَةَ . بِمِثْلِهِ. وَزَادَ: فَكَانَ اللَّهُ يَكْفِيهِمْ. وَقَالَ: وَكَانَتْ أُمُّهَا خَادِمَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهَا: رُزَيْنَةُ
حضرت عُلیلہ بنت کمیت عتکیہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ امینہ کو سنا، اوپر والی حدیث کی مثل روایت بیان کی اور اُس میں یہ اضافہ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان شیر خوار بچّوں کو کافی ہو جاتا تھا۔ جناب مسلمہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں جنہیں رزینہ کہا جاتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الهيثمي (مجمع 3 / 186): "رواه أبو يعلى، والطبراني في " الكبير " و "الأوسط "»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں