🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

رمضان المبارک میں آرام دہ بستر پر نہ سونا مستحب ہے کیونکہ آرام دہ بستر پر سونے والے کو نرم و گداز اور آرام دہ بستر پر نہ سونے والے شخص کی نسبت گہری نیند آتی ہے اور وہ نفل نماز کے لئے بہت کم چاق و چوبند ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ، ثُمَّ لَمْ يَأْتِ فِرَاشَهُ حَتَّى يَنْسَلِخَ"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان المبارک شروع ہو جاتا تو آپ اپنی کمر کس لیتے پھر آپ رمضان المبارک ختم ہونے تک اپنے بستر پر نہ آتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2216]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں