🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا 
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 26 ترقیم شاملہ: -- 136
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے خالد (حذاء) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ولید بن مسلم نے حمران سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 136]
حمران رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس یقین پر مرا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 26
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (9798)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 26 ترقیم شاملہ: -- 137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ابن علیہ کے بجائے بشر بن مفضل نے بھی خالد حذاء سے یہی روایت بیان کی، انہوں نے ولید ابوبشر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ..... اس کے بعد بالکل سابقہ روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 137]
حضرت حمران رحمہ اللہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور ان دونوں میں یکسانیت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 26
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9798)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 27 ترقیم شاملہ: -- 138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، قَالَ: فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ، قَالَ: حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ، فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ، وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ، قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ، قُلْتُ: وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى؟ قَالَ: كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
طلحہ بن مصرف نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کچھ سواریاں (اونٹوں) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں (تو بہتر ہو گا)، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا۔ طلحہ بن مصرف نے کہا: مجاہد نے کہا: جس کے پاس گٹھلیاں تھیں، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا۔ میں نے (مجاہد سے) پوچھا: گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا: ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (تھوڑے سے زاد راہ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا، وہ (ضرور) جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 138]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگوں کا زادِ راہ ختم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض سواریوں (اونٹوں) کو ذبح کر دیا جائے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش آپ لوگوں کا بچا کھچا توشہ جمع فرما لیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرمائیں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا کھجور۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس کے پاس گٹھلیاں تھیں وہ گٹھلیاں لے آیا۔ راوی نے پوچھا (مجاہد رحمہ اللہ سے): کہ گٹھلیوں کا کیا کرتے تھے؟ جواب ملا: ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جمع شدہ توشہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو لوگوں نے اپنے اپنے توشہ کے برتنوں کو بھر لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللہِ، لَا يَلْقَى اللہَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کو ان دونوں باتوں میں (توحید و رسالت) بلا شک و شبہ ملے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 27
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12806)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 27 ترقیم شاملہ: -- 139
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَسْرَةٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ ".
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے (اعمش کو شک ہے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ غزوہ تبوک کے دن (سفر میں) لوگ کو (زاد راہ ختم ہو جانے کی بنا پر) فاقے لاحق ہو گئے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی ڈھونے والے اونٹ ذبح کر لیں، (ان کا گوشت) کھائیں اور (ان کی چربی) ت- تیل بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔ (کہا:) اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی، اس کے بجائے آپ سب لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زاد راہ سمیت بلوا لیجیے، پھر اس پر ان کے لیے اللہ سے برکت کی دعا کیجیے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) آپ نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوا کر بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا زاد راہ منگوایا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) کوئی مٹھی بھر مکئی، کوئی مٹھی بھر کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لانے لگا یہاں تک کہ ان چیزوں سے دسترخوان پر تھوڑی سی مقدار جمع ہو گئی (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا فرمائی، پھر لوگوں سے فرمایا: اپنے اپنے برتنوں میں (ڈال کر) لے جاؤ۔ سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر کے برتنوں میں کوئی برتن بھرے بغیر نہ چھوڑا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) اس کے بعد سب نے مل کر (اس دسترخوان سے) سیر ہو کر کھایا لیکن کھانا پھر بھی بچا دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا: میں گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ ان دونوں میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا اسے جنت (میں داخل ہونے) سے نہیں روکا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 139]
حضرت ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہما سے (اعمش رحمہ اللہ کو شک ہے) روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی لانے والے اونٹوں کو ذبح کر لیں، کھائیں اور چربی کا تیل بنا لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کرلو۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی، البتہ آپ ان کو ان کے بچے ہوئے زادِ راہ سمیت بلوائیے، پھر ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا کیجیے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوا کر بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا زادِ راہ منگوایا۔ کوئی شخص مٹھی بھر جوار لا رہا ہے اور کوئی مٹھی بھر کھجور، کوئی روٹی کا ٹکڑا یہاں تک کہ اس سے دسترخوان پر تھوڑی سی مقدار جمع ہو گئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر لوگوں سے فرمایا: اپنے برتنوں میں ڈال لو۔ تو سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کے تمام برتن بھر گئے، پھر سب نے مل کر کھایا اور سیر ہو گئے اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ، لَا يَلْقَى اللّٰهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ» میں گواہی دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو شخص ان دونوں (توحید و رسالت) پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت سے محروم نہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 139]
ترقیم فوادعبدالباقی: 27
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4010 و 12535)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 28 ترقیم شاملہ: -- 140
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ، وَابْنُ أَمَتِهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ ".
(عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر نے کہا: مجھے عمیر بن ہانی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے جنادہ بن ابی امیہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں۔) اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے، اس کی بندی کے بیٹے اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف القا کیا تھا، اور اس کی طرف سے (عطا کی گئی) روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے، اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا، جنت میں داخل کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 140]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللهِ وَابْنُ أَمَتِهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے، اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جس کا اس نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے روح ہیں اور جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے وہ چاہے گا جنت میں داخل کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 140]
ترقیم فوادعبدالباقی: 28
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الانبياء، باب: قوله تعالى ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا﴾ برقم (3435) انظر ((التحفة)) برقم (5075)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 28 ترقیم شاملہ: -- 141
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ.
عمیر بن ہانی سے (عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ انہوں نے اس طرح کہا: اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اس کے عمل جیسے بھی ہوں۔ اور اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا (داخل کر دے گا) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 141]
عمیر بن ہانی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث سنائی، اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا اس کے عمل کیسے بھی ہوں اور انہوں نے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 28
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (139)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 29 ترقیم شاملہ: -- 142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْكِي، فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ، إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ".
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے (ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ) صنابحی نے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوا۔ میں رونے لگا تو انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! روتے کیوں ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی مانگی گئی تو میں ضرور تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے سفارش کا موقع دیا گیا تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گا اور اگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہیں نفع پہنچاؤں گا، پھر کہا: اللہ کی قسم! کوئی ایسی حدیث نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، اور اس میں تمہاری بھلائی کی کوئی بات تھی اور وہ میں نے تمہیں نہ سنا دی ہو، سوائے ایک حدیث کے۔ آج جب میری جان قبض کی جانے لگی ہے تو وہ حدیث بھی تمہیں سنائے دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 142]
صنابحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جبکہ وہ موت کے قریب تھے، تو میں رو پڑا، وہ مجھے فرمانے لگے: ٹھہریے! کیوں روتے ہو؟ پس اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی لی گئی، تو میں تیرے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے سفارش کا موقع ملا، تو میں تیری سفارش کروں گا اور اگر میرے بس میں ہوا، تو میں تجھے ضرور نفع پہنچاؤں گا۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! جو حدیث بھی میں نے تمہاری بہتری کے باعث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، وہ ایک حدیث کے سوا تم تک پہنچا دی اور وہ حدیث بھی آج تمہیں سنائے دیتا ہوں، کیونکہ میری جان قبض ہونے کو ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اس بات پر گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 29
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ما جاء فيمن يموت وهو يشهد ان لا اله الا الله- وقال: حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه برقم (2638) انظر ((التحفة)) برقم (5099)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 30 ترقیم شاملہ: -- 143
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ» اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں اور خدمت کے لیے تیار ہوں! پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» میں خدمت میں حاضر ہوں اور آپ کا فرمانبردار ہوں! پھر کچھ وقت چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» میں حاضرِ خدمت ہوں اور اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ «حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ» بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو زیادہ علم ہے۔ ارشاد فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» حاضر ہوں اور خدمت کے لیے تیار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ «حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ» جب بندے اللہ کا یہ حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ انہیں عذاب میں نہ ڈالے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 30
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى (صحيحه)) فى اللباس، باب: ارداف الرجل خلف الرجل برقم (5967) وفي الاستئذان، باب: من اجاب بلبيك وسعديك برقم (6267) وفي الرقاق، باب: من جاهد نفسه فى طاعة الله برقم (6500) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (11308)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 30 ترقیم شاملہ: -- 144
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا.
عمرو بن میمون نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! جانتے ہو، بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ (کسی چیز کو) شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اس کو عذاب نہ دے۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں؟ آپ نے فرمایا: ان کو خوش خبری نہ سناؤ ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 144]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عفیر نامی گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے، جو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سناؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو خوشخبری نہ دو وہ اسی پر بھروسا کر لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 30
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((الجهاد)) باب: اسم الفرس والحمار برقم (2701) وابوداؤد فى ((سننه)) فى الجهاد، باب: فى الرجل يسمى دابته باختصار برقم (2856) والترمذى فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ما جاء فى افتراق هذه الامة۔ ولم يذكر قصه الحمار، وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2643) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (11351)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 30 ترقیم شاملہ: -- 145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا مُعَاذُ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپ نے پوچھا: کیا جانتے ہو اگر وہ (بندے) ایسا کریں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 145]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک قرار نہ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو، اگر بندے یہ فرض انجام دیں تو ان کا اس پر (اللہ پر) کیا حق ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 30
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى التوحيد، باب: ما جاء فى دعاء النبى صلى الله عليه وسلم امته الى توحيد الله تبارك وتعالى برقم (7373) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (11306)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں