صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1695. (140) بَابُ صَدَقَةِ الْمُقِلِّ إِذَا أَبْقَى لِنَفْسِهِ قَدْرَ حَاجَتِهِ.
کم مال والا شخص اپنی ضروریات کے لئے رکھ کر باقی صدقہ کردے تو اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ:" رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، فَأَخَذَ مِنْ عَرَضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک درہم ایک لاکھ درہم پر کیسے سبقت لے گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس صرف دو درہم تھے تو اُس نے ایک درہم صدقہ کردیا۔ جبکہ دوسرے شخص کے پاس کثیر مال و دولت تھا تو اُس نے اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث: اسناده حسن