🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1732. ‏(‏177‏)‏ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْحَبْسِ مِنَ الضِّيَاعِ وَالْأَرَضِينَ
زرعی زمینیں اور جاگیریں وقف کرنے کی وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا تُقَسِّمُ وَرَثَتِي شَيْئًا مِمَّا تَرَكْتُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ" ، وَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ غَلَبَ عَلَيْهَا عَبَّاسًا، وَطَالَتْ فِيهَا خُصُومَتُهَا، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَقْسِمَهَا بَيْنَهُمَا حَتَّى أَعْرَضَ عَنْهَا عَبَّاسٌ غَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، ثُمَّ كَانَتْ عَلَى يَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَحَسَنِ بْنِ حُسَيْنٍ، فَكَانَا يَتَدَاوِلانِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں جو چیز چھوڑ جاؤں میرے وارث اسے تقسیم نہیں کریںگے ہم (انبیاء کرام) جو مال چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ یہ صدقہ پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قبضے میں تھا۔ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پالیا۔ اس بارے میں ان دونوں حضرات کا طویل جھگڑا چلا۔ (پھردونوں نے اسے تقسیم کرنا چاہا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال کو دونوں میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔ حتّیٰ کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس مال سے اعراض کرلیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پالیا۔ پھر یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تصرف میں رہا۔ پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی نگرانی میں چلا گیا۔ پھر ان کے بعد ان کے بیٹوں علی بن حسین اور حسن بن حسین کی نگرانی میں چلا گیا۔ جو باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر حضرت زید بن حسن کی نگرانی میں چلا گیا۔ جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی صدقہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالْمُحْبَسَاتِ/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2776، 3096، 6729، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1760، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3644، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2488، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6609، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12854، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7423، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1168»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلا دِرْهَمًا، وَلا عَبْدًا وَلا أَمَةً، إِلا بَغْلَتَهُ وَسِلاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً"
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت کوئی دینار، درھم، غلام یا لونڈی نہیں چھوڑی تھی، سوائے اپنے خچر اور ہتھیاروں کے اور ایک زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے صدقہ کردیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالْمُحْبَسَاتِ/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2739، 2873، 2912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1533، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12012، 12013، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4397، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18749»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں