🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1732. ‏(‏177‏)‏ باب الوصية بالحبس من الضياع والأرضين
زرعی زمینیں اور جاگیریں وقف کرنے کی وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلا دِرْهَمًا، وَلا عَبْدًا وَلا أَمَةً، إِلا بَغْلَتَهُ وَسِلاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً"
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت کوئی دینار، درھم، غلام یا لونڈی نہیں چھوڑی تھی، سوائے اپنے خچر اور ہتھیاروں کے اور ایک زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے صدقہ کردیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2739، 2873، 2912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1533، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12012، 12013، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4397، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18749»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جويرية بنت الحارث الخزاعيةصحابي
👤←👥عمرو بن الحارث الخزاعي
Newعمرو بن الحارث الخزاعي ← جويرية بنت الحارث الخزاعية
صحابي
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن الحارث الخزاعي
ثقة مكثر
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن الحسن الأشقر، أبو عبد الله
Newالحسين بن الحسن الأشقر ← زهير بن معاوية الجعفي
ضعيف الحديث
👤←👥يزيد بن سنان القرشي، أبو خالد
Newيزيد بن سنان القرشي ← الحسين بن الحسن الأشقر
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2489 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2489
فوائد:
➊ انبیاء کرام علیہم السلام کا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ ان کی وراثت فقراء و مساکین کے لیے صدقہ ہوتی ہے اور اسے رفاہِ عامہ پر صرف کیا جاتا ہے، اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ ورثاء میں تقسیم نہ کیا گیا۔
➋ عام مسلمان موت سے قبل تمام مال صدقہ نہیں کر سکتا ہے۔ ایک تہائی رقم تک صدقہ و خیرات کر سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2489]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2489 in Urdu