صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلاَّ مِنَ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الإِيمَانِ:
باب: ہمسایہ اور مہمان کی خاطرداری کرنے کی ترغیب، اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 173
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيى ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 173]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان اللہ اور قیامت پر ایمان و یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے، اور جو آدمی اللہ اور آخری دن پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أنفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15339)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 174
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ".
ابوحصین نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے، اور جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو شخص اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 174]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے، اور جو آدمی اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو انسان اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا پھر چپ رہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره برقم (5672) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الفتن، باب: كف اللسان فى الفتنة مختصراً برقم (3971) انظر ((التحفة)) برقم (12843)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 175
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ.
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... آگے ابوحصین کی روایت کے مانند ہے، البتہ اعمش نے (وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے کے بجائے) یہ الفاظ کہے ہیں: ” وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 175]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أنفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12450)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 176
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّه سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ".
ابوشریح (خویلد بن عمرو) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 176]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يوذ جاره برقم (5673) وفى باب: اكرام الضيف و خدمته اياه بنفسه برقم (5784 و 5785) وفي الرقاق، باب: حفظ اللسان برقم (6111) والمولف - مسلم - فى اللقطة، باب: الضيافة مختصراً برقم (4488 و 4489 و 4490) بلفظ قريب منه۔ والترمذى فى ((جامعه)) فى البر والصلة، باب: ما جاء فى الضيافة كم هو - ولم يذكر قصة الجار - وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1967 و 1968) مع ذكر قصة الضيافة وابن ماجه فى ((سننه)) فى الادب، باب: حق الضيف برقم (3675) انظر ((التحفة)) برقم (12056)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة