صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1899. (158) بَابُ كَرَاهَةِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ
ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ بیت اللہ شریف کو دیکھنے پر ہاتھ اُٹھانے کی کراہت کا بیان
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُرْفَعُ الأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنٍ" ، وَفِي الْخَبَرِ:" وَعِنْدَ اسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَجْعَلْ لِهَذَا الْخَبَرِ بَابًا، لأَنَّهُمْ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَبَيَّنْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات مقامات پر ہاتھ اُٹھائے جائیںگے۔“ اس حدیث میں ہے ”اور بیت اللہ شریف کو دیکھنے پر ہاتھ اُٹھائے جائیںگے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے لئے علیحدہ عنوان ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کی سند میں راویوں کا اختلاف ہے، اور میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزْعَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ أَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، قَالَ:" مَا أَظُنُّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلا الْيَهُودَ، وَقَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ يَفْعَلُ هَذَا"
جناب مہاجر مکی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ شریف کو دیکھتا ہے، کیا وہ اپنے ہاتھ اُٹھائے گا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ کام صرف یہودی ہی کرتے ہیں جبکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ یہ کام نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف