🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2096. ‏(‏355‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ‏.‏
عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کے دن روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرٍ , قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ:" إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الأَضْحَى، فَتَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ" ، خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ كِتَابِي الْكَبِيرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي ذِكْرِ وَلائِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمِثْلُ هَذَا لا يَكُونُ عِنْدِي مُتَضَادٌّ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَزْهَرَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ اشْتَرَكَا فِي عِتْقِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرِ، لأَنَّ وَلاءَهُ لِمُعْتِقَيْهِ جَمِيعًا
جناب ابو عبید مولی ابن ازہر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں شرکت کی۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو (عیدین کے) دنوں کے روزے سے منع کیا ہے، رہی عید الفطر تو وہ اس لئے کہ وہ تمھارے روزے ختم کرنے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ (کو روزہ اس لئے منع ہے) کہ تم اس دن اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ میں نے مکمّل باب کتاب الکبیر میں کتاب الصیام کے تحت بیان کردیا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید کی ولاء میں راویوں کا اختلاف ہے، کچھ راوی اسے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا مولیٰ قرار دیتے ہیں اور کچھ ابن ازہر کا) لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ابن ازہر کے مشترکہ غلام ہوں اور ان دونوں نے ہی انہیں آزاد کر دیا ہو لہٰذا بعض راویوں نے انہیں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام قرار دیدیا اور بعض نے اسے ابن ازہر کا غلام کہہ دیا کیونکہ اس کی نسبت ولاء دونوں آزاد کرنے والے حضرات کی طرف ہے . [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں