الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2096. (355) باب النهي عن صوم يوم الفطر ويوم النحر.
عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کے دن روزہ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرٍ , قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ:" إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الأَضْحَى، فَتَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ" ، خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ كِتَابِي الْكَبِيرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي ذِكْرِ وَلائِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمِثْلُ هَذَا لا يَكُونُ عِنْدِي مُتَضَادٌّ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَزْهَرَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ اشْتَرَكَا فِي عِتْقِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرِ، لأَنَّ وَلاءَهُ لِمُعْتِقَيْهِ جَمِيعًا
جناب ابو عبید مولی ابن ازہر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں شرکت کی۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو (عیدین کے) دنوں کے روزے سے منع کیا ہے، رہی عید الفطر تو وہ اس لئے کہ وہ تمھارے روزے ختم کرنے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ (کو روزہ اس لئے منع ہے) کہ تم اس دن اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ میں نے مکمّل باب کتاب الکبیر میں کتاب الصیام کے تحت بیان کردیا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید کی ولاء میں راویوں کا اختلاف ہے، کچھ راوی اسے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا مولیٰ قرار دیتے ہیں اور کچھ ابن ازہر کا) لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ابن ازہر کے مشترکہ غلام ہوں اور ان دونوں نے ہی انہیں آزاد کر دیا ہو لہٰذا بعض راویوں نے انہیں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام قرار دیدیا اور بعض نے اسے ابن ازہر کا غلام کہہ دیا کیونکہ اس کی نسبت ولاء دونوں آزاد کرنے والے حضرات کی طرف ہے . [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥سعد بن عبيد الزهري، أبو عبيد سعد بن عبيد الزهري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعد بن عبيد الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة | |
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر عبد الجبار بن العلاء العطار ← سعيد بن عبد الرحمن القرشي | صدوق حسن الحديث |
سعد بن عبيد الزهري ← عمر بن الخطاب العدوي