صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ:
باب: کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہو گا؟
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 318
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا، وَمَنْ أَسَاءَ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ ".
منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا جاہلیت کے اعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 318]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے جاہلیت کے عملوں پر مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے اعمال کیے اس کے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہوگا، اور جس نے برے عمل کیے اس کے جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال کا مواخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، البخاري في ((صحيحه)) في استتبابة المرتدين، باب: اثم من اشرك بالله وعقوبته في الدنيا والآخرة برقم (6523) انظر ((التحفة)) برقم (9303)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلَامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ".
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 319]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا جاہلیت کے عملوں پر مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے اس کے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہوگا، اور جس نے اسلام میں برا طریقہ اختیار کیا اس کے پہلے اور پچھلے اعمال پر مواخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في استتابة المرتدين، باب: اثم من اشرك بالله، وعقوبته في الدنيا والآخرة - برقم (6523) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الذنوب برقم (4242) انظر ((التحفة)) برقم (9258)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 320
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
اعمش کے ایک اور شاگرد علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 320]
امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه بمثل الحديث السابق برقم (315)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة