🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2151. ‏(‏410‏)‏ بَابُ النَّذْرِ بِالْحَجِّ ثُمَّ يَحْدُثُ الْمَوْتُ قَبْلَ وَفَائِهِ، وَالْأَمْرِ بِقَضَائِهِ
اگر کوئی حج کرنے کی نذر مانے اور پھر نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو اس کی طرف سے نذر پوری کرنے چاہیے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3041
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ لِتَشْبِيهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْرُ الْحَجِّ بِالدَّيْنِ
اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ مرنے والے کے پورے مال میں سے نذر (حج وغیرہ) پوری کرنی چاہیے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نذر کو قرض کے ساتھ تشبیہ دی ہے (اور قرض کل مال سے ادا کیا جاتا ہے، ایک تہائی مال سے نہیں) [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q3041]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاقْضُوا اللَّهَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ فوت ہوگئی تو اس کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے یہ مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا کیا خیال ہے، اگر تمھاری بہن مقروض ہوتی تو کیا تم اس کا قرض ادا کر دیتے؟ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا قرض (حج کی نذر) ادا کرو کیونکہ الله کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6699، 7315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 550، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3041، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2631، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2377، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8763، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2173»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں