اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب وجوب غسل الرجلين بكمالهما
باب: پورا پاؤں دھونا واجب ہے
حدیث نمبر: 139
139 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا، وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ، وَنَحْنُ نَتَوَضًّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک سفر میں جو ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں) کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے (وہ سفر مکہ سے مدینہ کا تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب (عصر کی) نماز کا وقت آن پہنچا تھا، ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے، پس پاؤں کو خوب دھونے کی بجائے ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے، (یہ حال دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» ”دیکھو! ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے“، دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں ہی بلند آواز سے) فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 3 باب من رفع صوته بالعلم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 140
140 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَمُرُّ وَالنَّاسُ يَتَوَضَّؤُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ؛ فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ
ایک دفعہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے، آپ نے کہا: اچھی طرح وضو کرو، کیونکہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”(خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 29 باب غسل الأعقاب»
وضاحت: منشا یہ ہے کہ وضو کا کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ورنہ وہی عضو قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا کیا جائے گا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»