🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

337. باب النهى عن الوصال في الصوم
باب: پے در پے روزہ رکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 670
670 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال سے منع فرمایا، صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 48 باب الوصال ومن قال ليس في الليل صيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 671
671 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَجلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقَينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ؛ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔“ لوگ اس پر بھی جب صومِ وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا، پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا۔“ گویا جب صومِ وصال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 49 باب التنكيل لمن أكثر الوصال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 672
672 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ مَرَّتَيْنِ قِيلَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ: إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار فرمایا: ”تم لوگ وصال سے بچو، تم لوگ وصال سے بچو۔“ عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے، پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 49 باب التنكيل لمن أكثر الوصال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 673
673 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ، وَوَاصَلَ أُنَاسٌ [ص:10] مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ مُدَّ بيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالاً يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ؛ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دنوں میں صومِ وصال رکھا (یعنی افطار و سحر کے وقت بھی نہیں کھایا اور روزے کو مسلسل جاری رکھا) تو بعض صحابہ نے بھی صومِ وصال رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس چھوڑ دیتے، میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں، میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 94 كتاب التمنى: 9 باب ما يجوز من اللوْ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 674
674 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے پے در پے روزے رکھنے سے منع کیا تھا۔ صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 674]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 48 باب الوصال ومن قال ليس في الليل صيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں