اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
337. باب النهى عن الوصال في الصوم
باب: پے در پے روزہ رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 671
671 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَجلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقَينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ؛ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔“ لوگ اس پر بھی جب صومِ وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا، پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا۔“ گویا جب صومِ وصال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 49 باب التنكيل لمن أكثر الوصال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 671 in Urdu