اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
400. باب التلبية والتكبير في الذهاب من منى إِلى عرفات في يوم عرفة
باب: لبیک اور تکبیر کہنا جب منیٰ سے عرفات کو عرفہ کے دن جائے
حدیث نمبر: 806
806 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا، وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عرَفَاتٍ، عَنِ التَّلْبِيَةِ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُلَبِّى الْمُلَبِّى، لاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ؛ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابی بکر ثقفی نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسے کس طرح کہتے تھے؟ اس وقت ہم منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیر کہنے والے تکبیر، اس پر بھی کوئی اعتراض نہ کرتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 12 باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى عرفة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»